Showing posts with label فرقہ بندی. Show all posts
Showing posts with label فرقہ بندی. Show all posts

Saturday, 21 December 2013

"اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے
اک ضرب ید اللہی،اک سجدہ شبیری

اقبال کے نزدیک اسلام کے دامن میں بس دو ہی چیزیں ہیں اک سجدہ شبیری،اک ضرب ید اللہی(حضرت علی کی جنگ)۔اس شعر کے مطابق یہ نظریہ نہ قرآن کے احکامات و تعلیمات میں سے ہے اور نہ ہی سنت پیغمبر اکرم یا اسوہ نبوی میں ہے۔اللہ نے جب اسلام کی تعلیمات و احکامات کی تکمیل کا اعلان فرمایا تو اس وقت سجدہ شبیری نام کی کوئی چیز دامن اسلام میں نہ تھی یہ شعر اگر اقبال یا جس کا ہے اس کے مطابق قرآن و سنت نبی اسلام میں شامل نہیں ہیں۔یہ شعر خیانت و کفر و الھاد کے کئی لفافوں مین پیش کیا گیا ہے گویا حضرت محمد،علی،فاطمہ زہراء،دیگر مہاجرین و انصار اور امام حسن کے سجدوں کی کوئی قیمت و ارزش نہیں نیز میدان کربلا میں خود امام حسین اور آپ کے عزیزان و انصار کی تلواروں کی بھی کوئی قیمت نہیں ہے۔

شاعر کے نزدیک قرآن و سنت تو اسلام میں ہیں ہی نہیں اگر آپ اس سچ کو مان لیں کہ اسلام دراصل احکامات و تعلیمات قرآن و سنت پیغمبر اکرم کا نام ہے تو پھر ہم سب مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنا پڑے گی۔لہذا شاعر نے لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل سے روکنے کیلے ایسی بات کو دامن اسلام کی زینت بنایا کہ صرف اس کا ذکر ہی کافی ہے عمل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔انہی اشعار کی پیروی کی وجہ سے امت مسلمہ گمراہی و بے دینی کے دلدل میں دھنستی چلی جا رہی ہے۔اسی لئے قرآن کہتا ہے"شاعروں کے پیروکار گمراہ ہوتے ہیں"۔(الشعراء:224)

کیا اسلام کے مصادر و ماخذ اوہام و خیالات شعراء ہیں اور جو وہ کہیں وہی اسلام ہے۔وہ جھوٹ بولیں،حقائق کو تہ و بالا کریں،اس میں آزاد ہیں۔کیا اسلام میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے:
1-اسلام کے دامن میں صرف ضربت لگانا ہے۔
2-نماز،روزہ اور ھج نہیں ہے۔
3-زکوۃ و انفاق نہیں ہے۔
4-امر بالمعروف و نہی از منکر نہیں ۔
5-تعلیم و تربیت نہیں۔
6-مومنین و مومنات کو آپس میں موالات کا حکم نہیں۔
7-میاں بیوی،اولاد و والدین اور بہن بھائیوں کے حقوق نہیں۔
8-مرتکبین جرائم و موبقات کیلے سزائیں نہیں۔
9-ضربت تنہا ضربت علی نہیں ہے امام حسن اور خود امام حسین کی بھی ضربتیں ہیں۔محمد بن حنفیہ،حضرت حمزہ کی بھی ضربتیں ہیں،زبیر بن عوام کی ضربتیں ہیں،زید بن حارثہ کی بھی ضربتیں ہیں اسی طرح طلحی بن عبد اللہ کی بھی،عبد الرحمن بن عوف اور خالد بن ولید کی ضربتیں ہیں۔
10-کیا اقبال کو نماز پڑھنے والوں کے سجدے،رسول اللہ کا سجدہ،امیر المؤمنین کا سجدہ،فاطمہ زہراء کا سجدہ،وفادار اسلام ابوبکر،عثمان،عمر کا سجدہ،طلحہ،بلال اور مسجد نبوی میں نبی کی اقتدا میں نماز پڑھنے والوں کے سجدے،حجت الوداع مین آپ کی اقتدا مین نماز پڑھنے والوں کے سجدے دکھائی نہیں دیتے،یہ کون سا سجدہ ہے جو علامہ نے امام حسین کے لئے مختص کیا ہے جب کہ امام حسین کی تاریخ میں کسی ایسے سجدے کا ذکر نہیں آیا ہے۔"

(دارالثقافہ سے عروۃ الوثقی۔۔۔۔علامہ علی شرف الدین موسوی بلتستانی )
"حضرت علی کے دور میں لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے۔اس وقت حضرت علی قرآن و سنت اور استحقاق و لیاقت اور امت کے انتخاب کے تحت خلیفہ برھق تھے۔میں اس حوالے سے شیعہ علی ہوں،اور معاویہ و خوارج کو باطل پر سمجھتا ہوں۔میں رائج فرقہ شیعہ سے خود کو الگ رکھنے کیلے خود کو شیعہ علی کہلواتا ہوں-اس لئے کہ حضرت علی قرآن و سنت کے تابع تھے۔یہاں اس وضاحت کی ضرورت ہے کہ رائج فرقہ شیعہ کو قرآن و سنت سے چڑ ہے،ان کے پاس کل دین علی اور کل عمل عزاداری ہے۔میں ان سے نہیں ہوں۔میرا دین اتباع قرآن و سنت تک محدود ہے۔
میں شیعہ سبائیہ،کیسانیہ،مختاریہ،سفاکیہ،خطابیہ،دیصانیہ،میمونیہ،قداحیہ،عماریہ ،عجلیہ،اس ماعیلیہ،بہریہ،مستعلیہ،نزاریہ،بنانیہ،صفویہ،شیخیہ،عمرانیہ نہ کبھی رہا نہ ہی ہونگا۔"
(دارالثقافہ سے عروۃ الوثقی۔۔۔۔علامہ علی شرف الدین موسوی بلتستانی )
"حضرت علی کے دور میں لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے۔اس وقت حضرت علی قرآن و سنت اور استحقاق و لیاقت اور امت کے انتخاب کے تحت خلیفہ برھق تھے۔میں اس حوالے سے شیعہ علی ہوں،اور معاویہ و خوارج کو باطل پر سمجھتا ہوں۔میں رائج فرقہ شیعہ سے خود کو الگ رکھنے کیلے خود کو شیعہ علی کہلواتا ہوں-اس لئے کہ حضرت علی قرآن و سنت کے تابع تھے۔یہاں اس وضاحت کی ضرورت ہے کہ رائج فرقہ شیعہ کو قرآن و سنت سے چڑ ہے،ان کے پاس کل دین علی اور کل عمل عزاداری ہے۔میں ان سے نہیں ہوں۔میرا دین اتباع قرآن و سنت تک محدود ہے۔
میں شیعہ سبائیہ،کیسانیہ،مختاریہ،سفاکیہ،خطابیہ،دیصانیہ،میمونیہ،قداحیہ،عماریہ ،عجلیہ،اس ماعیلیہ،بہریہ،مستعلیہ،نزاریہ،بنانیہ،صفویہ،شیخیہ،عمرانیہ نہ کبھی رہا نہ ہی ہونگا۔"
(دارالثقافہ سے عروۃ الوثقی۔۔۔۔علامہ علی شرف الدین موسوی بلتستانی )

Monday, 16 December 2013

کسی ملک میں تاریخ میں ڈننڈے اور کپڑے کی اتنی اہمیت نہیں جتنی ان(شیعہ)کے جھنڈےکی  ہے۔انہوں نے پہلے مرحلے میں اسے یادگار نشانی کے طور پر نصب کیا اور دوسرے مرحلے میں حاجت و نیاز لینے کے نام سے اسے تقدس دیا۔مجوس اور مشرکین کا ایک ٹولہ جمع کیا جو اس کی طرف ہاتھ بلند کر کے مانگ رہا ہے۔اور عمامہ پوش جو  اس سے حاجت مانگنے کے بعد جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم جھنڈے سے نہیں مانگتے۔یہ پرچم اپنی جگہ سامری کے بچھڑے کا کردار ادا کر رہا ہے۔1428ھ کو یہ ارتقائی منازل طے کرتے کرتے پاکستان کے شہر میانوالی روانہ ہوا اور سکردو میں ایک میلے کی شکل اختیار کر گیا۔اس جھنڈے کی پوجا یہاں کے علماء کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جو صفحہ تاریخ پر ثبت ہو گیا ہے اور اہل بیت کے ماننے والوں کو دوسرے مسلمانوں کے روبرو ضلیل و خوار کیا۔ انہیں مرجعیت۔قیادت،مقتدر سب کی حمایت حاصل تھی۔عبا اور عمامہ پوش حجت اسلام مرجین اسلام مروجین احکام بوتلوں میں بطور تبرک اس جھندے کے دھون کو ڈال کر اپنے گھروں میں لے گئے شاید وہ ابھی  اس بات سے انکار کریں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا جس طرح اس سے پہلے گھوڑا کا دھون  بطور تبرک پیا تھا کوئی بات نہیں کیونکہ اس سے ان کی سو خرافات و جعلیات میں ایک ہی کمی واقع ہوگی۔لہذا ہم اس دن کو مرجعیت قیادت بڑے چھوٹے علماء دین کی پاسداری کا پول کھلنے اور بوکھلاہٹ کا دن سمجھتے ہیں اور اس دن کو ان کے چہروں پر سیاہ دھبے کے طور پر یاد رکھیں گے۔

فرقہ بندی



"یہ فرقے اور ان کے بانیان خواہ کتنے ہی عالم و آگاہ کیوں نہ ہوں اس راہ میں انہوں نے کتنی ہی عرق ریزی وخونریزی کیوں نہ کی ہو۔وہ رسول اللہ ص سے بلند و بالا نہیں ہیں۔قرآن نے زندہ رہنے اور مرتے دم تک مسلمان رہنے کا حکم دیا ہے۔جب کہ فرقہ پرستون نے اسلام کو دفنایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کوئی بھی مسلمان اپنا تعارف مسلمان کے نام سے کروائے تو لوگ اسے قبول نہیں کرتے،یعنی سچا دعوی کرنے پر انہیں غصہ آتا ہے ،اسی لئے کہتے ہیں اپنے فرقے کا نام بتاؤ۔

لیکن ہم اسلام کے پیرو ہیں اسلام کا مصدر قرآن و سنت دونون ہیں اگر کسی نے اپنے فرقے کا نام محمدیہ رکھا تو یہ قرآن سے انحراف ہے اور اگر کسی نے اپنے فرقے کا نام قرآنیہ رکھا تو یہ محمد سے انحراف ہے۔قرآن کو چھوڑ کر سنت یا سنت کو چھوڑ کر قرآن یا دونوں کو چھوڑ کر شیعہ کہلوانے کا تعارف کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔"

(قرآن کا دفاع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصنف علامہ سید علی شرف الدین موسوی بلتستانی)